Login

Lost your password?
Don't have an account? Sign Up

عدل و انصاف۔ جمیع اللہ

نقطہ نظر: عدل و انصاف
مضمون نگار : جمیع اللہ
—————————————-

 انصاف کو انگریز ی میں کہا جاتا ہے جبکہ “Justice” کہا جاتا ہےکہ لفظ انصاف کے ساتھ ایک اور لازم و ملزوم لفظ “عدل” ہے

“عدل” لغت کے اعتبار سے کسی چیز کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرنے کو کہتے ہیں”۔

“عدل” کی ضد “ظلم” ہے۔ عدل کا مطلب کسی چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا، حق دار کو اس کا پورا حق دینا اور انفرادی و اجتماعی معاملات میں اعتدال کو اپنا کر افراط و تفریط سے بچنا۔

“عدل” کا دوسرا نام “انصاف” ہے۔ انصاف کا لغوی معنی “دو ٹکڑے کرنا”، “کسی چیز کا نصف”، “فیصلہ دینا”، اور “عدل کرنا” ہے۔

قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں عدل و انصاف کی اہمیت پر بہت زور دیاگیا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے۔ ” اے ایمان والو ! اللہ کے لیے(حق پر) مظبوطی سے قائم رہنے والے ہو جاو، دوآں حال یہ کہ تم انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے ہو، کسی قوم یا فرد کی عداوت تمہیں بے انصافی پر نہ ابھارے، تم عدل کرتے رہو (کیونکہ) وہ تقوی کے زیادہ قریب ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہوں بے شک اللہ تمہارے سب

کاموں کو خوب جاننے والا ہے”۔

اسلام نے ہمیشہ ہمیں باہمی تعلقات اور لین دین میں عدل و انصاف اور دیانتداری کا حکم دیا ہے۔ عدالتی معاملات میں حق اور سچ کی گواہی دینے کا حکم دیا ہے۔ عدل و انصاف سورج کی طرح روشن اور چمکتا ہے۔ کوی اس کو چھپا نہیں سکتا ہے۔ یہ پانی کی طرح خود اپنا راستہ بناتی ہے اور ظاہر ہوتا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ” جو قوم عدل و انصاف کو ہاتھ سے جانے دیتی ہے تباہی و بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے”۔

خطبہ حجتہ الوداع لے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری دنیا کو مساوات کا درست دیتے ہوئے فرما یا ” اے لوگوں! تم سب کا پروردگار ایک ہے اور تم سب کا باپ بھی ایک آدم علیہ السلام ہے۔

کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور کالے کو کسی گورے پر فضیلت حاصل ہے، سوائے تقوی اور پرہیزگاری کے”۔

ہمارے معاشرے کو اگر دیکھا جائے تو، عدل و انصاف تقریبا ناپید ہوچکا ہے۔ نا معاشرتی عدل و انصاف قائم ہے نا قانونی عدل و انصاف، سیاسی، معاشی اور مذہبی عدل و انصاف سارے کسی بھی صورت قائم نہیں ہیں۔

اس کی وجہ صحیح اسلامی شریعت نظام کا نہ ہونا ہے۔ کیونکہ عدل و انصاف اور مساوات کا درس تو ہمارا اسلام ہمیں قائم کرنے کو کہتا ہے۔

امریکا میں اگر جارج فلوئئڈ کو پولیس نے بے دردی سے قتل کیا وجہ ان لوگوں میں نسلی تعصب پایا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ ظلم ہمارے اسلامی ممالک میں بھی ہوں تو ہمیں بہت تکلیف دیتا ہے۔ یہاں روز بروز ہمارے چھوٹے بچے اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل عام کے واقعات نمودار ہوتے ہیں۔

یہاں بھی “جس کی لاٹھی اس کی بھینس ” والا محاورہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ ہر کوی اپنے سے نیچے والے بندہ اور طبقے پر ظلم سے گریز نہیں کرتا ہے۔

اگر کوی امیر، جاگیردار اور ووڈیرہ کا ایک غریب کے ساتھ کیس ایک قاضی کے سامنے آجائے تو ہونا تو یہ چاہیے کہ قاضی امیر و غریب میں تفریق کیے بنا حالات کو دیکھئے، شواہد کو اکھٹے کرے اور عدل و انصاف پر اپنا فیصلہ سنائیں۔ لیکن یہاں ایسا نہیں ہے، یہاں امیر کے لیے ایک قانوں اور غریب کے لیے دوسرا قانون ہے۔

سیاست میں بھی انصاف نہیں ہے۔ سیاستدان وہ شخص بن سکتا ہے جس کے ساتھ مال و دولت اور شہرت ہوں۔ ایک سیاست کا طالب علم اور سمجھنے والے میں اگر یہ خوبیاں نا ہو تو وہ سیاستدان نہیں بن سکتا ہے۔ دوسری طرف وہ سیاستدان اگر کوئ ترقی یافتہ کام کر رہا ہے تو وہ بھی ان علاقوں میں ان لوگوں کے لیے جن کا اثر رسوخ ہوں۔

چاہے وہاں ضرورت ہو یا نہ ہو۔ لیکن جن علاقوں میں کام کی ضرورت ہوتا ہے وہ علاقے سالوں سے محرومیوں کا شکار ہوتے ہیں۔

اسی طرح تقریبا سب شعبوں میں بے انصافی سے کام لیا جاتا ہے۔ اگر اس معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنا ہے، تو صحیح اسلامی شریعی نظام کا نفاذ کرنا ہوگا۔ ان لوگوں ڈھونڈنا ہوگا جو اس ملک میں اس نظام کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔ اس کے لیے اپنی ساری صلاحیتیں بروئے کار لانی ہوگی۔

امام غزالی ؒنے صرف عدل کی اہمیت واضح کرنے اور سمجھنے کے لئے یہ بات کی کہ عدل انفرادی اور اجتماعی سطح پر نافذ کرنا ضروری ہے۔ اسے عدالتوں تک محدود کرنا اس کی ہمہ

گیریت حیثیت کے ساتھ زیادتی ہے۔

 

اسی طرح عام آدمی بھی عدل کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا‘ حالانکہ ہر فرد کے لئے عدل کرنا اس کی زندگی کو سنوارنے کے لئے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اجتماعی انسانی زندگی کی ہر ہر اکائی کے ساتھ عدل کرنے کی ذمہ داری ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔

فرد معاشرہ سے عدل کرے‘ معاشرہ فرد سے عدل کرے‘ عوام حکومت کے ساتھ عدل کریں‘ حکمران عوام کے ساتھ عدل کریں تو پھر ایک ایسا عادلانہ نظام قائم ہوسکتا ہے جہاں کسی کی حق تلفی نہیں ہوگی کسی پر ظلم نہیں ہوگا‘ کہیں منافقت نہیں ہوگی۔

کہیں کرپشن اور بدعنوانی نظر نہیں آئے گی۔ اس ظلم کے نظام کو ختم کرنا ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے ” کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا!

https://mzsfamily.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*

Click to Chat
1
MZS Marketing Network Team is online.
Please ask if you have any question. We'll be happy to answer you!
Thanks.