Login

Lost your password?
Don't have an account? Sign Up

نوجوانوں کا ریکارڈ۔ کامران حسین

مجہوہاں کے نوجوانوں کو جرمنی کا ریکارڈ توڑنے پر مبارک باد:

یہ 1853 کی بات ہے جب جرمنی کا موجودہ بڑا شہر اس وقت ایک چھوٹا قصبہ ہوا کرتا تھا۔ میں میونچ کی بات کر رہا ہوں۔ میونچ آج یونیورسٹیوں، بندرگاہوں اور انڈسٹریز کا شہر ہے۔ میں نے جب اپنے گاوں مجہوہاں کے بچوں کو کلیاں سے مجہوہاں سڑک کو اپنی مدد آپ پختہ کرتے دیکھا تو مجھے میونچ کے ارتکائی دور کی ایک کہانی یاد آگئی۔ 1853 میں میونچ ایک غریب قصبہ تھا۔۔۔ اور اس کے مضافات میں دور ایک ندی کنارے کچھ کسان آباد تھے۔ کسان میونچ اور اس کے اردگرد واقع بڑے شہر کی خوراک پوری کرنے کے لئے فصلیں کاشت کیا کرتے تھے۔

یہ کسان جرمنی کی حکومت سے ہمیشہ کھیت سے منڈی کے لئے سڑک ڈیمانڈ کیا کرتے تھے۔ کھیت سے منڈی میں سڑک نہ ہونے کی وجہ سے میونچ کی منڈی کے آڑھتی ہمیشہ ان کی فصل منہ مانگے داموں خرید لیتے اور کسان ہمیشہ غریب ہی رہتے تھے۔ کسان اپنی اس بے بسی سے تنگ آگئے لیکن جرمن حکومت کے کرتا دھرتا لوگ ان کسانوں کو منڈی سے کھیت کی سڑک دینے کو تیار نہ تھے اور اس کی وجہ آڑھتی کا اثرورسوخ تھا۔

1853 میں تنگ آکر ان کسانوں نے اپنی مدد آپ مل کر میونچ منڈی سے اپنے مضافاتی قصبہ کی سڑک بنانے کی ایک تحریک شروع کی۔ سڑک بنانے کا طریقہ یہ تھا کہ جس کسان کے پاس پیسے ہیں وہ اس سڑک کے لئے پیسے عطیہ کرے گا اور جس کے پاس پیسے نہیں وہ یہاں 1 ماہ کام کرے گا۔
جون 1853 میں اس دنیا کے اس پہلے فلاحی منصوبہ پر کام شروع ہو اور دسمبر 1855 میں 2 سال کی محنت کے بعد کسانوں نے مل کر 13 کلو میٹر کی سڑک کو مکمل کر لیا۔ جب سڑک مکمل ہوئی تو اس پر تختی نصب کرنے جرمنی کے حکومتی سرکاری اور سماجی رہنما پہنچے تو کسانوں نے انھیں منع کر دیا۔
جب خریف کی فصل تیار ہوئی تو کسانوں نے اپنی فصل صاف کر کے اپنے اپنے کھیتوں میں ڈھیر لگا کر اسے بارش اور گرمی سے محفوظ بنا کر میونچ کی منڈی میں ایک کسان کو بطور قاصد بھیجا۔ کہ وہ آڑھتیوں کو اطلاع کرے کہ فضل خرید تیار ہو گئی ہے۔ ہم نے اپنی سڑک مکمل کر دی ہے لہذا اس بار ہم اپنی فصل اپنی مدد آپ منڈی میں نہیں لائیں گئے کیوں کہ ہماری فصل آپ اونے پونے ریٹ پر ادھار خرید لیتے ہیں اور اس کی باربرداری کا خرچہ بھی ہمارا ہوتا ہے۔ اب سے ہر فصل آڑھتی خود آکر کھیت سے خرید کر خود منڈی تک پہنچائے گا۔

آڑھتیوں پر یہ خبر بجلی کی طرح گری اور انھوں نے ضد میں آکر یہ تہہ کیا کہ جب تک کسان خود فضل منڈی تک نہیں لاتے ہم فضل خریدنے نہیں جائیں گئے۔
اب حالت یہ تھی کہ ایک طرف کسان بضد تھے تو دوسری طرف آڑھتی نے بھی فصل کھیت سے نہ خریدنے کی ٹھانی لی تھی۔

لیکن آخر یہ کب تک چلتا، خریف کی فصل بروقت منڈی تک نہ پہنچنے کی وجہ سے صرف 2 ماہ میں میونچ میں خوراک کی قلعت ہو گئی۔ یوں آڑھتی اٹھ کھڑے ہوئے اور کسانوں کے پاس پہنچے۔ آڑھتیوں نے اپنے پونے قمیت پر فصل بازار میں پہنچانے کی شرط پر بولی دینے کا کہا تو کسانوں نے دونوں شرائط مسترد کر کے ایک سال کا ایڈوانس دس سال کے ایگریمنٹ کا مطالبہ کیا اور ریٹ بھی 4 گنا اضافی مانگا۔ آڑھتی بے بس ہو کر واپس چلے گئے اگلے ایک ماہ میں آڑھتیوں کے کئی وفد غلہ خریدنے آنے جو ناکام واپس گئے۔
جب خوراک کی قلعت بڑھنے لگی تو آڑھتی واپس آئے اور میں مانگے داموں پر نقد غلہ خرید کر خود بازار لے جانے پر مجبور ہوگئے۔
یہی سے پہلی سوشل ویلفئیر آرگنائزیشن کا آغاز ہوا اور لوگ اپنی مدد آپ ایک تنظیمی ڈھانچہ بنا کر کام کرنا شروع ہوگئے۔ اور جرمنی آج ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ یہ لفظ میں بڑے فخر سے لکھ رہا ہوں کہ اس ریکارڈ کو 167 سال بعد ہمارے گاؤں مجہوہاں کے نوجوانوں نے توڑا۔۔۔ آپ کو مبارک ہو ہمیں آپ پر فخر ہے۔ آج جس یکجہتی سے آپ سب کام کر رہے ہیں اس کی تصویری جھلکیاں دیکھ کر خون جوش مارتا ہے کہ کاش ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے اور اسی دل جمی اور جذبہ سے کام کرتے۔
ہمارے آباؤ اجداد نے یہ سڑک بنائی تھی لیکن اس کو سیاسی ایم این اے اور ایم پی ایز بے توجہ نہ دی۔ اور سب سیاسی پارٹیوں نے ہمیں استعمال کیا ہمارا ووٹ جھوٹے وعدوں سے لیا لیکن ہمیں اس کے عوض کوئی مراحات نہیں دی۔

اس کامیاب پروجیکٹ کے مکمل ہونے پر ہم انشا اللہ گورنمنٹ ہائی سکول مجہوہاں میں جمع ہوں گئے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے علاوہ اپنے نوجوانوں کی کامیابی کا جشن منائیں گئے اس تقریب کے تمام تر اخراجات میں ذاتی طور پر ادا کروں گا۔ اس کے علاوہ دوران تعمیر سڑک اپنے گاوں کی باغیور نوجوان نسل کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ایک لاکھ روپے نقد عطیہ کر رہا ہوں۔ راستہ صدقہ جاریہ ہے اس لئے اس میں یہ رقم میں اپنے دادا نواب علی اور اپنی دادی، اپنے نانا حبیب اللہ اور میری نانی، اس سڑک کے بانی جناب افسر خان صاحب جو میرے پسندیدہ سیاسی لیڈر تھے، اپنے اساتذہ جناب رفیق صاحب، جناب عبدالرحمن صاحب اور میرے دوست عبدالشکور صاحب کے ایصال ثواب کے لئے عطیہ کر رہا ہوں۔ اللہ پاک یہ عطیہ قبول فرمائے اور ان سب لوگوں کو جنت میں اعلی مقام عطافرمائے۔
آپ کو یہ رقم وقتا فوقتا قاری عاقب صاحب کے ذریعہ پہنچتی جائے گی۔ اور اگر پروجیکٹ مکمل نہ ہوا تو مزید رقم بھی عطیہ کی جائے گی۔۔۔۔
میرے گاؤں کے نوجوانوں بچوں اور بزرگوں کو سلام آپ کی ہمت عزم اور جذبہ کو سلام۔۔۔

 

کامران حسین قریشی

 

https://mzsfamily.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*

Click to Chat
1
MZS Marketing Network Team is online.
Please ask if you have any question. We'll be happy to answer you!
Thanks.